ہائپوپرولیکٹیمیا (Hyperprolactinemia) سے مراد خون میں پرولیکٹن ہارمون کا غیر معمولی حد تک بڑھ جانا ہے (مردوں میں 15 سے 20 ng/mL سے زیادہ)۔ جب پرولیکٹن ہارمون زیادہ ہو جائے تو یہ دماغ سے خصیوں کو سگنل دینے والے ہارمونز (FSH, LH) کو بند کر دیتا ہے، جس سے ٹیسٹوسٹیرون کم ہو جاتا ہے اور سپرمز بننا بند ہو جاتے ہیں۔
ہارمونل رپورٹ کی تشریح: پرولیکٹن کا بگاڑ
| ہارمون / پیرامیٹر | نارمل حد | پرولیکٹیمیا کے نتائج | طبی اہمیت اور تشریح |
|---|---|---|---|
| پرولیکٹن ہارمون | 2.0 – 18.0 ng/mL | > 25 ng/mL (اور بعض اوقات 200 سے زیادہ) | اگر 50 سے زیادہ ہو تو دماغ کی رسولی (Prolactinoma) کا شک ہوتا ہے۔ |
| خون میں FSH اور LH | نارمل رینج | بہت کم یا دبے ہوئے | دماغی فیڈ بیک لوپ کی وجہ سے ہارمونز کا دب جانا۔ |
| ٹیسٹوسٹیرون ہارمون | 300 – 1000 ng/dL | < 250 ng/dL (انتہائی کم) | جنسی خواہش کی کمی، سستی اور اعصابی کمزوری کا باعث بنتا ہے۔ |
بڑی وجوہات اور تشخیصی مراحل:
پرولیکٹن بڑھنے کی سب سے بڑی وجہ دماغی پچوٹری غدود میں چھوٹی رسولی (Prolactinoma) ہے، جس کے لیے دماغ کا ایم آر آئی (Brain MRI) کروایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ معدے، ہائی بلڈ پریشر یا نفسیاتی ادویات کا استعمال، اور تھائیرائڈ کی سستی (Hypothyroidism) بھی پرولیکٹن بڑھا سکتی ہے۔
طبی اور ہربل علاج:
رسولی کے علاج کے لیے کیبرگولین (Cabergoline) گولی ہفتے میں ایک یا دو بار دی جاتی ہے جو رسولی کو سکیڑ دیتی ہے اور پرولیکٹن نارمل کرتی ہے۔ دیسی ادویات میں ہلدی، اشوگندھا اور تھائیرائڈ کو درست کرنے والی جڑی بوٹیاں دی جاتی ہیں جو ہارمونل توازن بحال کرتی ہیں۔