ہائپر اسپرمیا (Hyperspermia) سے مراد سیمن (منی) کی مقدار کا معمول سے بہت زیادہ ہونا ہے، جو عام طور پر 5.0 سے 6.0 ملی لیٹر سے تجاوز کر جاتا ہے۔ بظاہر یہ ایک اچھی علامت لگتی ہے، لیکن اضافی مقدار سپرمز کے ارتکاز (concentration) کو گھٹا دیتی ہے، جس سے حمل ٹھہرنے میں مشکل پیش آتی ہے۔
سیمن رپورٹ کا تجزیہ: ہائپر اسپرمیا
| پیرامیٹر | نارمل ریفرنس حد | ہائپر اسپرمیا کے نتائج | تشخیصی اہمیت |
|---|---|---|---|
| منی کی مقدار (Volume) | 1.5 – 5.0 mL | > 5.5 – 6.0 mL | ہائپر اسپرمیا کی تصدیق کرتا ہے |
| سپرم کا ارتکاز (Concentration) | ≥ 15 Million/mL | اکثر کم ہوتا ہے (<15 Million/mL) | سپرمز کا اضافی پانی میں پتلا ہونا (Dilutional Oligospermia) |
| کل سپرمز کی تعداد | ≥ 39 Million | نارمل یا زیادہ | خصیوں میں سپرم بننے کی مجموعی صلاحیت ٹھیک ہوتی ہے |
اہم تشخیصی مراحل:
- پرہیز کے وقت کو باقاعدہ بنانا: 2 سے 3 دن کے مقررہ پرہیز کے بعد ٹیسٹ دہرانا تاکہ سٹوریج کے اثر کو دور کیا جا سکے۔
- غدود کی سوزش کی جانچ: پراسٹیٹ اور سیمنل ویزیکلز کے پوشیدہ انفیکشن کو مسترد کرنا جو اضافی رطوبت پیدا کرتے ہیں۔
- لیکج کی جانچ: یہ دیکھنا کہ جماع کے بعد اضافی رطوبت رحم کے منہ سے باہر تو نہیں گرتی۔
طبی علاج اور رہنمائی:
ہائپر اسپرمیا زیادہ تر سیمنل ویزیکلز کے زیادہ رطوبت پیدا کرنے یا طویل پرہیز سے ہوتا ہے۔ اگر یہ بانجھ پن کی وجہ بن رہا ہو، تو لیبارٹری میں سپرم کو سینٹری فیوج کر کے گاڑھا کیا جاتا ہے اور آئی یو آئی (IUI) یا آئی وی ایف کے ذریعے حمل کا عمل مکمل کیا جاتا ہے۔