نیکروزوسپرمیا (Necrozoospermia) سے مراد منی میں موجود تمام سپرمز کا مردہ (غیر زندہ) ہونا ہے۔ اسے ایسٹھینوزوسپرمیا سے الگ کرنا بہت ضروری ہے، کیونکہ اس میں سپرم متحرک تو نہیں ہوتے لیکن اندرونی طور پر زندہ اور کارآمد ہوتے ہیں، جبکہ نیکروزوسپرمیا میں وہ مر چکے ہوتے ہیں۔
رپورٹ پڑھنے کا طریقہ: نیکروزوسپرمیا بمقابلہ ایسٹھینوزوسپرمیا
| رپورٹ پیرامیٹر | نارمل حد (WHO) | نیکروزوسپرمیا کے نتائج | تشخیصی اہمیت |
|---|---|---|---|
| کل موٹیلٹی (حرکت) | ≥ 40% | 0% (حرکت بالکل غائب) | Explicitly سپرمز میں آگے بڑھنے یا ہلنے کی صلاحیت کا خاتمہ ظاہر کرتا ہے |
| سپرم کی زندگی (Vitality) | ≥ 58% زندہ | 0% سے 20% سے کم زندہ | مردہ سپرمز کی تصدیق (رنگنے پر یہ گلابی/سرخ نظر آتے ہیں) |
| ہوسٹ ٹیسٹ (HOST) | ≥ 58% مڑی ہوئی دم | بہت کم یا غائب | جھلی کی کمزوری اور پروٹوٹائپ کی خرابی کو ظاہر کرتا ہے |
تشخیصی مراحل:
- وائٹلیٹی سٹیننگ (Eosin-Nigrosin): جو سپرمز مردہ ہوں وہ گلابی نظر آتے ہیں اور زندہ سفید رہتے ہیں۔
- مختصر پرہیز کا ٹیسٹ: روزانہ یا دن میں دو بار اخراج کر کے دوبارہ ٹیسٹ کرنا تاکہ خصیوں کے اوپر جمع مردہ سپرمز خارج ہو جائیں.
- بیکٹیریل کلچر ٹیسٹ: خصیوں یا غدود میں چھپے انفیکشن کی تشخیص کے لیے۔
وجوہات اور علاج:
اس بیماری کی بڑی وجوہات میں منی کا خصیوں میں زیادہ دیر رکے رہنا اور پوشیدہ انفیکشن شامل ہیں۔ علاج کے لیے روزانہ اخراج کا پروٹوکول، اینٹی بائیوٹکس اور شدید حالت میں خصیوں سے براہ راست زندہ سپرم نکالنے کا طریقہ (TESA) استعمال کیا جاتا ہے۔