اینٹی سپرم اینٹی باڈیز (Antisperm Antibodies - ASA) مدافعتی بانجھ پن (Immunological Infertility) کا باعث بنتی ہیں۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب انسانی جسم کا اپنا مدافعتی نظام سپرمز کو بیرونی دشمن سمجھ کر ان کے خلاف اینٹی باڈیز (IgA, IgG) بنانا شروع کر دیتا ہے۔ اگر ٹیسٹ میں 50 فیصد یا اس سے زیادہ سپرم اینٹی باڈیز سے جڑے ہوں تو ٹیسٹ مثبت مانا جاتا ہے۔
مدافعتی ٹیسٹ کی رپورٹ کی تشریح
| مدافعتی ٹیسٹ | نارمل حد | مثبت (بیماری) کی حد | طبی اہمیت اور حمل پر اثرات |
|---|---|---|---|
| Direct MAR Test (IgG) | < 50% سپرمز جڑے ہونا | ≥ 50% سپرمز جڑے ہونا | سپرم کو رحم کے منہ (cervical mucus) کو پار کرنے سے روکتا ہے۔ |
| Direct MAR Test (IgA) | < 50% سپرمز جڑے ہونا | ≥ 50% سپرمز جڑے ہونا | انتہائی اہم؛ سپرم کو انڈے کی بیرونی جھلی سے جڑنے سے روکتا ہے۔ |
| Immunobead Assay (IBT) | < 50% بیڈز جڑے ہونا | ≥ 50% بیڈز جڑے ہونا | سپرم کے متاثرہ حصے (سر، گردن یا دم) کی نشاندہی کرتا ہے۔ |
حفاظتی جھلی کا ٹوٹنا اور اسباب:
خصیوں کے گرد ایک قدرتی حفاظتی جھلی (Blood-Testis Barrier) ہوتی ہے جو خون کے مدافعتی خلیوں کو سپرمز تک پہنچنے سے روکتی ہے۔ خصیوں پر چوٹ لگنا، مڑ جانا (Torsion)، بائیوپسی، یا نس بندی (Vasectomy) کے آپریشن کے بعد یہ جھلی ٹوٹ جاتی ہے، جس سے جسم سپرمز کے خلاف اینٹی باڈیز بنانا شروع کر دیتا ہے جو سپرمز کو آپس میں چپکا دیتی ہیں (Agglutination)۔
طبی علاج اور ہربل پروٹوکول:
اس کا سب سے کامیاب طبی حل سپرم واشنگ (Sperm Washing) ہے جس میں لیبارٹری میں سپرم کی سطح سے اینٹی باڈیز دھو کر صاف کی جاتی ہیں اور آئی یو آئی (IUI) یا آئی سی ایس آئی (ICSI) کی جاتی ہے۔ دیسی ادویات میں اشوگندھا اور ہلدی (Curcumin) جیسے سوزش کش اینٹی آکسیڈنٹس دیے جاتے ہیں جو مدافعتی نظام کو متوازن کرتے ہیں۔