سی بی اے وی ڈی (CBAVD) سے مراد سپرم لے جانے والی نالیوں (vas deferens) کی پیدائشی غیر موجودگی ہے۔ یہ مردانہ بانجھ پن کے 1% سے 2% مریضوں میں اور نطفہ صفر (Obstructive Azoospermia) کے شکار 10 فیصد مریضوں میں پائی جاتی ہے۔ اس بیماری میں خصیے سپرم بناتے ہیں لیکن باہر نکلنے کا راستہ نہ ہونے سے سپرم خارج نہیں ہو پاتے۔
سیمن رپورٹ اور طبی معائنہ کی تشریح:
| ٹیسٹ پیرامیٹر | نارمل رپورٹ | CBAVD کے نتائج | طبی اہمیت |
|---|---|---|---|
| رگوں کا چھونا (Palpation) | دونوں طرف سپرم کی نالیاں محسوس ہوتی ہیں | نالیاں غائب ہوتی ہیں | بیماری کی پہلی طبی تصدیق۔ |
| منی کی مقدار (Volume) | ≥ 1.5 mL | بہت کم (0.1 – 0.8 mL) | سیمنل تھیلیوں کی پیدائشی غیر موجودگی ظاہر کرتا ہے۔ |
| سیمنل pH (تیزابیت) | ≥ 7.2 | تیزابی (pH 6.0 – 6.8) | منی میں الکلائن رطوبت کی کمی کی وجہ سے صرف تیزابی مادہ خارج ہونا۔ |
| فرکٹوز (Fructose) | مثبت (موجود) | منفی (غائب) | تصدیق کرتا ہے کہ منی بنانے والی تھیلیاں غائب ہیں۔ |
جینیاتی اسباب اور سسٹک فائبروسس:
سی بی اے وی ڈی کے 80 فیصد سے زیادہ مریضوں میں CFTR جین کی خرابی (مٹیشن) پائی جاتی ہے، جس کا تعلق سسٹک فائبروسس بیماری سے ہے۔ اس کے علاوہ، بعض مریضوں میں ایک ہی گردہ ہونے (Renal Agenesis) کا خطرہ بھی ہوتا ہے جس کے لیے پیٹ کا الٹراساؤنڈ کروایا جاتا ہے۔
طبی علاج اور بچہ پیدا کرنے کا طریقہ:
چونکہ خصیوں میں سپرمز بن رہے ہوتے ہیں، اس لیے سوئی کے ذریعے خصیے یا نالی سے سپرم نکالنے کا عمل PESA یا MESA کیا جاتا ہے جس کی کامیابی کا تناسب 100 فیصد ہے۔ ان سپرمز کو آئی سی ایس آئی (ICSI) کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اولاد پیدا کرنے سے پہلے میاں بیوی کا جینیاتی ٹیسٹ لازمی ہے تاکہ بچوں میں جینیاتی بیماری منتقل نہ ہو۔