ہائپوگوناڈوٹروپک ہائپوگوناڈزم (Hypogonadotropic Hypogonadism - HH) یا ثانوی ہائپوگوناڈزم، ایک ہارمونل بیماری ہے جو دماغ میں موجود پچوٹری یا ہائپوتھلمس غدود سے سگنل دینے والے ہارمونز (FSH اور LH) کی پیداوار نہ ہونے سے ہوتی ہے۔ اس کی وجہ سے خصیے ٹیسٹوسٹیرون بنانا بند کر دیتے ہیں اور سپرم کا بننا مکمل رک جاتا ہے، جس سے نطفہ صفر (Azoospermia) ہو جاتا ہے۔
ہارمونل رپورٹ پڑھنے کا طریقہ:
| ہارمون / پیرامیٹر | نارمل حد (بالغ مرد) | ہائپوگوناڈزم کے نتائج | طبی تشریح |
|---|---|---|---|
| ٹوٹل ٹیسٹوسٹیرون | 300 – 1000 ng/dL | < 150 ng/dL | ٹیسٹوسٹیرون کی شدید ترین کمی؛ خصیوں کی سستی ظاہر کرتا ہے۔ |
| خون میں FSH ہارمون | 1.5 – 12.4 mIU/mL | < 1.0 mIU/mL (بہت کم) | دماغی غدود (پچوٹری) کی خرابی کی تصدیق کرتا ہے، خصیے تندرست ہوتے ہیں۔ |
| خون میں LH ہارمون | 1.7 – 8.6 mIU/mL | < 1.0 mIU/mL (بہت کم) | دماغ سے خصیوں کو سگنل نہ ملنے کی تصدیق۔ |
| سپرم کی تعداد (Semen) | > 15 Million / mL | زیرو سپرم (Azoospermia) | ہارمون FSH کی عدم موجودگی کی وجہ سے سپرم کا بننا مکمل طور پر بند ہو جاتا ہے۔ |
تشخیصی مراحل اور اسباب:
اس کی تشخیص کے لیے صبح نہار منہ خون کا ٹیسٹ (Testosterone, FSH, LH, Prolactin) کیا جاتا ہے۔ دماغی غدود میں سسٹ یا رسولی کو دیکھنے کے لیے دماغ کا ایم آر آئی (Brain MRI) لازمی کروایا جاتا ہے۔ پیدائشی اسباب میں سونگھنے کی صلاحیت کا غائب ہونا (کالزمین سنڈروم) شامل ہے۔ اس کے علاوہ جم کے دوران سٹیرائڈز (Anabolic Steroids) کا استعمال بھی پچوٹری غدود کو مستقل سست کر دیتا ہے۔
طبی اور ہارمونل علاج:
ایسے مریضوں کو اولاد کے لیے بیرونی ٹیسٹوسٹیرون ہرگز نہیں دینا چاہیے کیونکہ اس سے سپرمز مزید بند ہو جاتے ہیں۔ اس کا علاج ایچ سی جی (hCG) اور ایف ایس ایچ (recombinant FSH) کے ٹیکوں سے کیا جاتا ہے تاکہ خصیوں کو دوبارہ سپرم بنانے کے لیے متحرک کیا جا سکے۔