نارمل سیمن اخراج کے وقت جمے ہوئے لوتھڑے کی شکل میں ہوتا ہے اور 15 سے 30 منٹ (زیادہ سے زیادہ 60 منٹ) کے اندر اندر پراسٹیٹ کے انزائمز کی مدد سے پانی کی طرح پگھل جاتا ہے۔ اگر سیمن پگھلنے میں 60 منٹ سے زیادہ وقت لے (Delayed Liquefaction) یا پگھلنے کے بعد بھی لیس دار اور گاڑھا رہے (Hyperviscosity) تو یہ سپرم کی حرکت کو روک دیتا ہے۔
سیمن رپورٹ کا تجزیہ: لزوجت اور پگھلنا
| رپورٹ پیرامیٹر | نارمل حد (WHO) | تشخیصی نتیجہ | طبی اہمیت اور اثرات |
|---|---|---|---|
| پگھلنے کا وقت (Liquefaction) | 60 منٹ کے اندر پگھلنا (عام طور پر 15 سے 30 منٹ) | > 60 منٹ | تاخیر سے پگھلنا (پراسٹیٹ کے انزائمز کی کمی یا سوزش) |
| گاڑھا پن (Viscosity Thread) | قطرہ قطرہ گرنا؛ تار کی لمبائی 2 سینٹی میٹر سے کم | تار کی لمبائی 2 سینٹی میٹر سے زیادہ | ہائپر وسکوسیٹی (منی کا غیر معمولی لیس دار اور گاڑھا ہونا) |
| کل حرکت (Motility) | ≥ 40% | پہلے کم؛ میکانکی طور پر ہلانے سے بہتر ہوتی ہے | سپرم لیس دار مادے میں پھنس جاتے ہیں، جس سے آگے بڑھنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے۔ |
تشخیصی طریقے اور وجوہات:
سیمن کا گاڑھا پن چیک کرنے کے لیے پائپیٹ سے قطرہ گرا کر تار کی لمبائی دیکھی جاتی ہے۔ اگر تار 2 سینٹی میٹر سے لمبی ہو تو یہ ہائپر وسکوسیٹی ہے۔ اس کی بڑی وجہ پراسٹیٹ غدود کی سستی یا انفیکشن ہے، جس سے وہ انزائمز (جیسے PSA) پیدا نہیں کر پاتا جو منی کو پگھلاتے ہیں۔ جسم میں پانی کی شدید کمی بھی اس کا باعث بن سکتی ہے۔
طبی اور ہربل علاج:
لیبارٹری میں آئی یو آئی (IUI) سے پہلے سیمن کو کیموٹرپسن (chymotrypsin) انزائم کے ذریعے پتلا کیا جاتا ہے۔ گھر پر علاج کے لیے مریض کو روزانہ زیادہ پانی پینے کی تاکید کی جاتی ہے اور بلغم کو پتلا کرنے والی دوا این-ایسیٹائل سسٹین (NAC) اور ہربل اینٹی بائیوٹکس دی جاتی ہیں تاکہ پراسٹیٹ کا انفیکشن دور ہو۔