سپرم ایگلوٹینیشن (Sperm Agglutination) سے مراد متحرک سپرمز کا آپس میں چپک جانا ہے (سر سے سر، دم سے دم، یا مکسڈ)۔ اسے ایگریگیشن (Aggregation) سے الگ کرنا ضروری ہے، کیونکہ ایگریگیشن میں غیر متحرک سپرم منی میں موجود مردہ خلیوں، پیپ یا رطوبت سے چپک جاتے ہیں جس کی طبی اہمیت بہت کم ہوتی ہے۔
سیمن رپورٹ کی تشریح: سپرم چپکنے کے درجات
| ایگلوٹینیشن کا درجہ | خوردبینی تفصیل | طبی اہمیت اور حمل پر اثرات |
|---|---|---|
| درجہ 1 (Isolated) | لوتھڑے میں 10 سے کم سپرمز؛ بہت سے سپرمز آزاد تیر رہے ہوتے ہیں۔ | طبی طور پر بے ضرر؛ قدرتی حمل ٹھہرنا ممکن ہے۔ |
| درجہ 2 (Moderate) | لوتھڑے میں 10 سے 50 سپرمز؛ آزاد سپرمز بھی موجود ہوتے ہیں۔ | سپرمز کی حرکت (Motility) سست کرتا ہے؛ حمل میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ |
| درجہ 3 (Severe) | ہر لوتھڑے میں 50 سے زیادہ سپرمز؛ آزاد سپرمز بہت کم ہوتے ہیں۔ | قدرتی ملاپ سے حمل ٹھہرنے کے امکانات شدید متاثر ہوتے ہیں؛ فوری علاج ضروری ہے۔ |
| درجہ 4 (Complete) | تمام سپرمز آپس میں جڑ کر بڑے جالے بنا لیتے ہیں۔ | سپرمز کا آگے بڑھنا ناممکن ہو جاتا ہے؛ یہ بانجھ پن کی بڑی وجہ ہے۔ |
سپرم چپکنے کی بڑی وجوہات:
اس کی تین بڑی وجوہات ہیں: ۱۔ اینٹی سپرم اینٹی باڈیز جو سپرمز کو آپس میں جڑنے پر مجبور کرتی ہیں۔ ۲۔ بیکٹیریل انفیکشن (جیسے ای کولائی جراثیم) جو سپرمز کی دموں کو آپس میں جکڑ دیتے ہیں۔ ۳۔ سیمنل پی ایچ (pH) کا بگاڑ جو غدود کی سوزش کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔
طبی اور ہربل علاج:
بیکٹیریل انفیکشن ہونے کی صورت میں اینٹی بائیوٹکس کا استعمال کروایا جاتا ہے۔ لیبارٹری میں سپرم واشنگ کے ذریعے چپکے ہوئے سپرمز کو الگ کر کے آئی یو آئی (IUI) یا آئی سی ایس آئی (ICSI) کی جاتی ہے۔ ہربل ادویات میں ایسے اینٹی آکسیڈنٹس دیے جاتے ہیں جو منی کی تیزابیت کو دور کر کے سپرمز کو چپکنے سے بچاتے ہیں۔