ویری کوسیل (Varicocele) سے مراد خصیوں سے خون واپس لے جانے والی رگوں کا پھول جانا اور ان میں خون کا جمع ہونا ہے۔ یہ عام مردوں میں 15 فیصد تک پائی جاتی ہے، لیکن ابتدائی بانجھ پن کے شکار 35% سے 44% مردوں میں اور ثانوی بانجھ پن کے شکار 45% سے 81% مردوں میں پائی جاتی ہے، جو مردانہ بانجھ پن کی سب سے بڑی قابل علاج وجہ ہے۔
ویری کوسیل کے درجات اور رپورٹ پڑھنے کا طریقہ:
| ویری کوسیل کا درجہ / ٹیسٹ | طبی معائنہ اور علامات | سپرم اور سیمن پر اثرات |
|---|---|---|
| درجہ 1 (معمولی) | صرف کھانسنے یا زور لگانے (Valsalva) پر محسوس ہوتی ہے۔ | سپرم کی معمولی کمزوری؛ رپورٹیں عام طور پر بارڈر لائن پر ہوتی ہیں۔ |
| درجہ 2 (درمیانی) | بغیر کھانسے یا عام حالت میں چھونے پر محسوس ہوتی ہے لیکن نظر نہیں آتی۔ | سپرم کی تعداد اور حرکت پذیری میں درمیانی درجے کی کمی۔ |
| درجہ 3 (شدید) | خصیوں کی جلد کے اوپر سے صاف نظر آتی ہے (چمڑی کے نیچے کیڑوں کا گچھا)۔ | سپرم کی تعداد، حرکت اور شکل کی شدید خرابی (OAT Pattern)۔ |
| کلر ڈوپلر الٹراساؤنڈ | رگوں کا سائز 2.0 سے 3.0 ملی میٹر سے زیادہ ہونا اور خون کا الٹا بہاؤ۔ | پوشیدہ ویری کوسیل اور رگوں کے پھیلاؤ کی تصدیق کرتا ہے۔ |
خصیوں پر ویری کوسیل کے مضر اثرات:
۱۔ درجہ حرارت کا بڑھنا: خون کا رساؤ خصیوں کا درجہ حرارت 1.5 سے 2.5 ڈگری بڑھا دیتا ہے، جس سے سپرم بننے کا عمل رک جاتا ہے۔ ۲۔ زہریلے مادوں کا جمع ہونا: رگوں کے الٹے بہاؤ سے گردوں کے زہریلے مادے خصیوں میں واپس آ جاتے ہیں۔ ۳۔ آکسیڈیٹیو اسٹریس: خصیوں میں آکسیجن کی کمی سپرم کے ڈی این اے کو نقصان پہنچاتی ہے۔
علاج اور مائیکرو سرجری:
اگر ویری کوسیل طبی معائنے میں واضح ہو اور سپرم ٹیسٹ خراب ہو، تو مائیکرو سرجری (Microsurgical Varicocelectomy) بہترین حل ہے۔ اس سے کامیابی کا تناسب سب سے زیادہ اور دوبارہ بیماری ہونے کا خطرہ صرف 1 فیصد ہوتا ہے۔ سرجری کے بعد خصیوں کی طاقت بحال کرنے کے لیے ہربل ادویات دی جاتی ہیں۔